Bandar se insaan benaney ki koshish

0
181

دوستوں تاریک میں کی پاگل اور ڈاکٹر اور سائنسدان گزرے ہیں۔جن کے عجیب و غریب کاموں نے دنیا کو حیران کر دیا انہی میں سے ایک سائنسدان ایلینیا ایم او تھا یہ بیسویں صدی کی شروعات کا انتہائی مشہور سائنسدان تھا اس آدمی کا تعلق اس وقت تھی سودیا یونین سے تھا جس کو آج ہم رشیا کہتے ہیں دوستوں یہ بات آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہائبرڈ جانور ان جانوروں کو کہتے ہیں جو دو جانوروں کے کروز کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہوتے ہیں جیسا کہ کھنچے ہم سب جانتے ہیں کہ خچر گھوڑے اور گدھے کے کروز سے پیدا ہوتا ہے ایلیا اینو وہ بھی اسی قسم کے تجربے کیا کرتا تھا اس نے زیبرا اور گدھے کا کروز کروایا اور پیداہونے جانور کا نام زیو کس رکھا اسی طرح اس نے چوہوں خرگوش اور کی جانوروں پر تجربے کیے آپ اپنے اس شوق کو لے کر اس کے دماغ میں انتہائی خطرناک منصوبہ تیار ہونا شروع ہوگیا انیس سو دس میں اس نے اپنے اکثر دوستوں سے شیئر کیا کہ یہ شخص انسان اور چمپینزی کا کروز کرکے نیا ہائبرڈ بنانا چاہتا ہے جو کہ آدھا انسان ہوگا اور آدھا چمپینزی ہوگا لیکن یہ بات اس کے دوستوں نے مذاق سمجھ کر ڈال دیں اگلے 14 سال تک یہ سائنسدان اس منصوبے پر کام کرتا رہا اور 14 سال بعد اس نے اس کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کر لیا انیس سو چوبیس کے اندر اس نے موجودہ حکومت کے سامنے باقاعدہ ملین رکھ دیا کہ یہ انسان چمپنزی کا ہائبرڈ بنانا چاہتا ہے اور اس کے لیے اسے فنڈز درکار ہیں اس وقت کی حکومت کے تمام ممبران نے اس کے اس منصوبے کی سخت مذمت کی لیکن اس وقت کی حکومت نے اس کو اس منصوبے پر کام کرنے کی اجازت دے دی وہاں سے یہ سائنسدان افریقہ چلا گیا اور اپنی مرضی کے چمپینز کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا ای سائٹس نے اس ہائبرڈ کا نام ہومننزی رکھنے کا فیصلہ کیا۔انیس سو 26 کے اندر یہ پانچ مادہ چمپینزی کے ساتھ رشیا واپس آیا اور ساتھ ہی اس نے 5 مردوں کو بھی جھنڈا جن کا کروس یہ ان مادہ جن کس کے ساتھ کروا سکے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ ملا ۔بالآخر اس میں پھر دس نر چیمپئنز کو افریقہ سے منگوایا اور دس لڑکیاں ڈھونڈیں جن کا کروس انٹر چیمپئنز کے ساتھ کروا سکے پر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اس کے سارے نر چمپینزیز ایک ایک کر کے مرنے لگے سارے نر چمپینزی کے مرنے کے بعد اس نے حکومت سے دوبارہ سے درخواست کی کہ اسے اور چمپینزی لانے کے لیے فنڈ دیا جائے لیکن اس وقت رشیاکی حکومت تبدیل ہوچکی تھی تو انہوں نے اس کا ساتھ نہیں دیا ساتھ ہی یہ سائنسدان دنیا میں اپنے اس تجربے کو لے کر کافی بدنام ہو چکا تھا۔تو حکومت نے اس کو حکومت کا پیسہ ضائع کرنے کے الزام میں تزا کستان کی ایک جیل میں ڈال دیا۔جہاں اس کو ایک سال تک رکھا گیا۔اور کچھ عرصہ کے بعد اس سائنسدان کی موت ہوگئی دوستو کوئی بھی سائنسدان آج تک کوئی بھی ہیومنزی نہیں بنا سکا۔سائنس کتنی بھی ترقی کر لے لیکن اللہ کی رضا کے سامنے سب فیل ہو جاتا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here