Inspring life story of Ali Banat

0
58

دوستو آج سے کچھ عرصہ پہلے آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے تعلق رکھنے والا ایک شخص یوٹیوب پر موجود ایک ویڈیو سے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی نظر کا زینت بن گیا ویڈیو کا ٹائٹل جی تھا۔Gifted with Cancer
یعنی مجھے کینسر کا تحفہ ملا ہے ویڈیو نے ہر مسلمان کے جذبات کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اس قدر سوچنے پر مجبور کردیا کہ وہ کس قدر دنیا کے دھوکے اور فریب کا شکار ہو چکے ہیں ان کی ترجیحات کس قدر غلط ہیں یہ شخص ایک آسٹریلین لڑکا علی بنات تھا جو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ملین ڈالر کمپنی کا مالک تھا۔اس کی پرکشش لائف سٹائل کی لوک مثالیں دیا کرتے تھے۔اور چاہتے تھے کہ وہ بھی اس کی طرح امیر اور سٹائلیش دیکھیں کوئی زندگی کی آسائش ایسی نہیں تھی جو اس کو دستیاب نہ ہو۔پھر چاہے وہ محل نما گھر ہو لاکھوں ڈالر کی قیمتیں کار 60 لاکھ روپے کا بریسلٹ ہزاروں لاکھوں ڈالر کے گلاسز جوتے اور گھڑیاں ہو۔لیکن ان سب آسائشوں کے ہونے کے باوجود ایک زندگی کے حادثے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔اس حادثے نے اسے احساس دلایا کہ وہ ساری عمر جن آسائشوں کے پیچھے بھاگتا رہا وہ سب ایک دھوکا تھا۔ ہزار پندرہ میں علی بنات کو پتہ لگا کے وہ اسٹیج فور کے کینسر میں شکار ہے۔جس کا کوئی علاج ممکن نہیں۔ڈاکٹرز نے اسے بتایا کہ یہ صرف سات مہینے ہی زندہ رہ سکتا ہے لیکن یہ پیشن گوئی غلط ثابت ہوئی۔اور علی بنات تین سال مزید زندہ رہا۔اور پھر وہ اس جہاں فانی سے کوچ کر گیا۔اور جاتے جاتے ان تمام لوگوں کو پیغام دےگیا۔جو دن رات دولت کے نشے میں گمراہ ہو چکے ہیں۔تو اس کو کمانے کی کھاتے اور آسائشیں حاصل کرنے کی کھاتے اپنے بنانے والے کو بھی بھول چکے ہیں۔وہ یہ بھول چکے ہیں کہ انہیں ایک دن مرنا بھی ہے۔اور یہ سب کچھ ان کی قبر میں کوئی کام نہیں آئے گا۔کیوں کے کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی۔جیسے ہی علی بنات کو اپنی بیماری کا علم ہوا اس نے فورا ہی اپنی لگجری لائف کو ترک کردیا۔اس نے اپنا اربوں روپے کا بزنس بیچا اور اپنی تمام دولت غریبوں میں وقف کر دی۔وہ افریقہ کے غریب ترین ملک ٹو بو میں روانہ ہوگیا۔جہاں کی ایک مسلم کمیونٹی غربت سے بھی نیچے طبقے پر زندگی گزار رہی ہے۔کیونکہ یہ صدقہ جاریہ تھا جس کا ثواب اس کو مرنے کے بعد بھی ملنے والا تھا۔اس میں یہاں بچوں کے لئے مقامی سکول بنایا۔اس نے یہاں دو سو سے بھی زیادہ گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ایک چھوٹا سا میڈیکل سینٹر اور میں بزنس بنا کر لوگوں کو دیے۔تاکہ وہ خود کما کر خود کفیل ہو سکیں۔اس ہی دوران علی بنات میں وہ ویڈیو گفٹڈ ود کینسر کے نام سے بنائی۔اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو پیغام دیا۔کے ہم دنیا میں غلط چیزوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو ہمیں آخرت میں کوئی فائدہ نہیں دینے والی۔یہ سب چیزیں مادّی ہیں جو دنیا میں ہی رہ جائیں گی۔میں اس کینسر کو تحفہ اور گفٹ اس لیے کہتا ہوں کیونکہ اس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی۔جب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ بیمار ہیں اور آپ کے پاس جینے کے لیے وقت نہیں ہیں تب آپ وہ کام کرتے ہیں جو آپکو روز کرنے چاھیے۔آج اگر مجھ سے یہ لاکھوں ڈالر گاڑی کی قیمت پوچھی جائے تو مجھے یہ افریقہ کے چند بچوں کی خوشی سے زیادہ کچھ نہیں لگتی۔کیوں کہ یہی وہ صدقہ ہے جو مجھے مرنے کے بعد بھی فائدہ دینے والی ہے۔کیونکہ آپ کی قبر میں آپکے ساتھ نہ تو ماں باپ ہوں گے اور نہ ہی عیش و آرام ہوں گے تو صرف دنیا میں کئے ہوئے اچھے کام اور لوگوں کی دعائیں۔الی بلاد اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اللہ سے ملاقات کی تیاریاں کرتا رہا۔کیوں کے وہ موت کی حقیقت کو قبول کر چکا تھا۔اور وہ باقاعدہ نماز پڑھنے لگا وہ کہتا تھا کہ اسے اب محسوس ہوتا ہے کہ سانس لینا بھی اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔میں یہی روز سوچ کر سوتا ہوں کہ یہ میرا آخری دن ہے لیکن صبح اٹھنے پر افسوس کرتا ہوں کہ میں مزید گناہ کرنے کے لیے ابھی تک زندہ ہوں۔میں اللہ تعالی سے ملاقات کے لیے بے چین ہوں۔اپنی موت کے چند دن پہلے علی بنات نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا۔
جس کی شروعات اس نے ان الفاظوں سے کی
“الحمداللہ میں فوت ہو چکا ہوں اور لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ تعالی نے جو ہمیں نعمتیں دی ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے۔ہمیں چاہئے کہ اپنی زندگی کو بے مقصد نہ گزاریں۔بلکہ اس کا ایک مقصد بنا لیں۔دنیا میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیکیاں اکٹھی کرے کیوں کے یہی وہ چیزیں ہیں جن کی ضرورت ہمیں قیامت کے دن پڑے گی۔
جو لوگ اس قیمتی زندگی میں صرف دولت اور شہرت کے لیے ہیں زندگی گزار رہے ہیں وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں۔زندگی میں کی ہوئی نیکیاں اور صدقہ ہیں صرف آپ کے ساتھ آخرت میں جائگا۔لہذا آپ اپنی ترجیحات کو بدلے۔”
اس ویڈیو پیغام میں علی بنات یہ جان چکے تھے۔وہ مزید زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہنے والا لہذا اس کے جذبات دیکھ کر ہر شخص کا دل بھر آیا۔آج علی بنات اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن جاتے جاتے نصیحت کرگئے کہ بہت سے لوگ مر جاتے ہیں اور اپنی دولت کو اس دنیا میں ہی چھوڑ جاتے ہیں۔اور کھالی ہاتھ چلے جاتے ہیں۔یقین ہمیں ان کی زندگی سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالی علی بنات کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔اللہ تعالی ہمیں سمجھ اور ہدایت عطا فرمائے۔
آمین۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here