Poor Boy from Sahiwaal Becomes a Billinaire in America

0
220

 

دوستوں اگر ہم محنت کرتے رہیں اور ہماری سمت صحیح و تو اسکا صلع کبھی نہ کبھی مل ہی جاتا ہے آج میں آپ کو انتہائی حیرت انگیز کہانی سنانے جا رہا ہوں جو انتہائی دلچسپ اور موٹیویشنل ہے یہ کہانی ایڈیبل ارینجمنٹ نامی ایک کمپنی کے بارے میں ہیں اور سی ای او طارق فرید کے بارے میں ہے طارق فرید ایک امریکن پاکستانی ہیں ان کا تعلق ساہیوال کے ایک گاؤں سے ہے طارق فرید اس وقت امریکہ کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں ان کی کمپنی ہر سال اربوں روپے کا پروفٹ کماتی ہے ان کی کمپنی پھلوں کو گلدستوں میں سجا کر بھیجتی ہے جیسا کہ پھولوں کا گلدستہ ہوتا ہے طارق فرید نے پھولوں کی جگہ پھلوں کو لگا کر بیچنا شروع کیا جو کہ پھولوں کی ہی طرح لگتے ہیں لیکن اس گلدستے کو لوگ کھا بھی سکتے ہیں یہ آئیڈیا امریکہ میں مشہور ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے طارق فرید کی زندگی بدل گئی لیکن دوستو طارق فرید سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے ان کی کہانی انتہائی دلچسپ ہے طارق فرید 1969 میں ساہیوال کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے یہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں ان کے مطابق ان کے والد کو پھل کھانے کا بہت شوق تھا ان کے والد گرمیوں میں ان کے لئے آم لے کر آتے تھے اور یہ سب بہت شوق سے کھایا کرتے تھے ان کی پوری فیملی پھلوں کو بہت شوق سے کھایا کرتی تھی لیکن اس وقت ان لوگوں کو یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ پھل ان کی زندگی تبدیل کردیں گے طارق فرید جب بارہ سال کے ہوئے تو ان کے والد کو امریکہ جانے کا موقع ملا ان کے ایک دوست امریکہ میں رہ رہے تھے اور یہی دوست ان کی پوری فیملی کو سپانسر کرنے کے لیے تیار تھے طارق کے والد نے امریکہ جانے کا فیصلہ کر لیا طارق کو امریکہ جانے سے صرف ایک مہینہ پہلے پتہ چلا کہ یہ اور ان کی پوری فیملی امریکا شفٹ ہو رہی ہے ان کی والدہ نے چند کپڑے لیے اور بس ان کی فیملی پیسے والی نہیں تھی ان کو پتہ تھا کہ شروع میں ان کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا دوستو 1981 میں طارق فرید اپنی فیملی کے ہمراہ امریکہ پہنچ گئے یہ 8 فیملی ممبر تھے نیا ملک اوراس میں سیٹل ہونا انتہائی مشکل کام تھا ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے طارق کے والد ایک مکینک کی حیثیت سے کام کرنا شروع ہو گئے اور شام میں میکڈونلڈ میں کام کیا کرتے تھے تاکہ ان کی فیملی کا پیٹ بھر سکے طارق کے مطابق ایک بار ان کا امریکا میں عام کھانے کا دل چاہا یہ آم خریدنے ایک سٹور میں گئے لیکن وہاں آم انتہائی مہنگے تھے ایک آم ایک ڈالر کا تھا اور طارق کے والد پیسے ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے اور یہ آم بھی نہیں خرید سکے طارق فرید سب بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور اپنی فیملی کی مالی حالت دیکھ کر ان کو سپورٹ کرنا چاہتے تھے پھر طارق نے اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ چھوٹی موٹی نوکریاں ڈھونڈنے شروع کردی پہلے طارق شروع میں لوگوں کے گھروں میں اخبار ڈلیور کیے ہوٹلوں میں برتنوں کو بھی مانجھا اور لوگوں کے گھروں کی گھانس بھی کاٹی ۔یہ سارے پیسے اپنی امی کو دے دیا کرتے تھے جب طارق سولہ سترہ سال کے تھے تو ان کے والد نے  چھ ہزار ڈالر کی پھولوں کی ایک دکان خریدی یہ پیسے بھی انھوں نے ادھار لیے تھے طارق بھی اس کی دکان پر کام کرنا شروع ہو گیا دوستوں وقت گزرتا گیا طارق اور انکی فیملی کا گزارا اچھے سے ہونے لگ گیا 1989 میں طارق اور انکی فیملی کی زندگی تبدیل ہونے جارہی تھی طارق کے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا کہ جیسے یہ پھولوں کے گلدستے بھیجتے ہیں ویسے ہی ان کی جگہ پھلوں کو لگا بچا جائے یعنی کے پھلوں کا گلدستہ بیچا جائے دوستوں ایک اچھا آئیڈیا انسان کی زندگی تبدیل کر دیتا ہے اس وقت کچھ کمپنیز ایسے گلدستے بنا تو رہی تھی لیکن وہ نہ ہونے کے برابر تھی تاریخ کی فیملی کو یہ آئیڈیا بہت اچھا لگا انہوں نے فورا سے ہی اس پر کام کرنا شروع کر دیا تجربے کے طور پر انہوں نے یہ پھلوں کے گلدستے اپنے کچھ کسٹمرز کو فری دیے کسٹمر ان سے متاثر ہوتے اور گلدستے بنانے کا آرڈر دیتے ایک بار ان کو اکٹھے اٹھائیس گلدستو کا آرڈر مل گیا اس وقت ان لوگوں کے پاس یہ گلدستے بنانے والی کوئی مشین بھی نہیں تھی تو یہ لوگ ان کو پوری پوری رات جاگ کر بنایا کرتے تھے اور دوستوں دیکھتے ہی دیکھتے طارق اور انکی فیملی کا یہ ایڈیبل رجمنٹس کا بزنس بڑھتا چلا گیا انہوں نے اپنی فرینچائز مختلف لوگوں کو بیچنا شروع کردیں آہستہ آہستہ نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی انکی فرینچائز کھل گئی آج صرف امریکا میں طارق اور انکی فیملی کے بارہ سو سے زیادہ سٹور ہیں ان کی کمپنی کی سلانہ سیل 600 ملین یعنی 80 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے ان کی کمپنی آج نہ صرف پھلوں کا گلدستہ بناتی ہے بلکہ چوک لیس اور بھی بہت سی پروڈکٹس بھیجتی ہے طارق کے مطابق ان کی والدہ جوکہ بزنس شروع کرنے سے پہلے ہی وفات پا گئی تھیں انہوں نے طارق سے کہا تھا کہ کبھی مت بھولنا کے تم کہاں سے آئے ہو اور تم کیا تھے دوستوں طارق اور ان کی کمپنی ایڈیبل ارینجمنٹ س امریکہ کی ناموار کمپنیوں میں سے ایک ہے ان کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سرمایہ کا رونا نہ رو کر حلات کا مقابلہ کر کے زندگی میں کچھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے

 

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here